جلیل عباس جیلانی کا ملتان کے مشہور سیاسی اور سماجی خاندان سے تعلق ہے۔ان کے خاندان کے کچھ لوگ سیاست اور کچھ بیورو کریسی میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ جیلانی صاحب انتہائی کامیاب سفارت کار ہیں ۔ وہ پاکستان کے ترجمان کا فریضہ بھی ادا کر چکے ہیں۔برطانیہ،بھارت ،سعودی عرب ،یمن، امریکہ،بھارت، آسٹریلیا اور امریکہ جیسے اہم ممالک میں پاکستان کی انتہائی کامیابی سے سفارت کاری کا فریضہ ادا کیا ہے اور اب بلجیم اور یورپین یونین کے سفیر کی حیثیت سے تعینات ہوئے ہیں۔ بات کرنے کا ہنر جانتے ہیں اور اس ہنر کو پاکستان کی ترجمانی میں استعمال کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔شعرو ادب کا ذوق اپنے نانا نواب زادہ نصراللہ خان سے ورثے میں ملاہے۔ آسٹریلیا میں کامیاب سفارت کاری کے ساتھ ساتھ پاکستانی کیمونٹی میں بھی انتہائی مقبول تھے۔
ان سے انٹرویو کے لئے نوائے وطن کے ایڈیٹر طارق محمود مرزا خاص طور پر سڈنی سے کینبرا گئے تھے جہاں نوائے وطن کے مشیرِ خصوصی محمد علی صاحب نے انہیں ریسیو کیا اور ان دونوں نے یہ انٹرویو کیا۔ یہ انٹرویو جیلانی صاحب کی آسٹریلیا سے روانگی سے چند دن قبل ریکارڈ ہوا تھا۔ اسے محمد علی نے الفاظ کا جامہ پہنایا ہے جبکہ کتابت اور ایڈیٹینگ طارق محمود مرزا نے کی۔ ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کا تفصیلی انٹرویو پہلے آسٹریلیا کے کسی اُردو اخبار میں آج تک شائع نہیں ہوا ۔نوائے وطن کی جیلانی صاحبسے یہ بات چیت آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔
( طاہر احمد چیف ایڈیٹر
کرسمس چھٹیوںمیں حادثاتی اموات
سڈنی میں حادثے میں فوت ہونے والی ایک خاتون کی موت کے ساتھ ہی پورے آسٹریلیاء میں اس چھٹھیوں کے سیزن کے دوران اموات کی تعداد چوالیس ہو چکی ہے۔نیو ساوتھ ویلز میں چودہ
ویسٹرن آسٹریلیاءمیں سات۔ وکٹوریہ میں گیارہ
ساوتھ آسٹریلیاء میں دو ایک تسمانیہ اور تین ناردرن ٹیرٹری میں ایک اورکوئینزلینڈمیں سات افراد لقمہ ء اجل بن چکے ہیں۔
ادارہ نوائے وطن کی آپ سے درخواست ہے کہ اگر آپ سفرکررہے ہیں یا سفرکاارادہ رکھتے ہیں تو انتہائی احتیاط سے سفرکیجئے اوراردگرد کے ماحول سے چوکنا ہو کر گاڑی چلائیں۔ کسی اور کی غلطی سے بھی آپ نقصان اٹھا سکتے ہیں۔لہٰذہ بہت احتیاط کیجئے
قونصلیٹ جنرل پاکستان کاپیغام
Dear Tariq Sahib
Thank you for the well wishes. I am feeling quite good by the Grace of God.
I read nawaewatan with much intrest. Congratulations for this online Urdu newspaper for the community in Australia. It is heartening to see the Urdu print which seeks to positively serve, inform and entertain our community and focus on the positive strengths of the Community.
Best regards
Azam Mohammed
Consul General
Consulate General of Pakistan
آسٹریلوی ساحل کے قریب واقع آئس برگ تیزی سے بہہ رہا ہے۔ آئس برگ کسی بھی جہاز سے ٹکرا سکتا ہے۔
آسٹریلوی ساحل کے قریب واقع آئس برگ تیزی سے بہہ رہا ہے۔ آئس برگ کسی بھی جہاز سے ٹکرا سکتا ہے۔ عالمی حدت کی وجہ سے سمندر میں واقع برف کے وسیع و عریض پہاڑ یا آئس برگ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ کئی مقامات پر آئس برگ ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکے ہیں اور لہروں پر سفر کرتے کرتے مختلف مقامات تک جا پہنچتے ہیں جہاں ان کا وجود بحری جہازوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال آسٹریلیا میں بھی پیش آرہی ہے جہاں آئس برگ کا انیس کلومیٹر حصہ مین لینڈ سے سترہ سو کلومیٹر دور تیر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئس برگ سڈنی ہاربر سے دو گنا بڑا ہے اور گرم پانی میں پہنچتے پہنچتے مزید حصوں میں تقسیم ہوجائے گا جو بحری جہازوں کیلئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے
کینبرا میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت کی تعمیر جلد ہی شروع ہو رہی ہے
نوائے وطن ، آسٹریلیا ،خصوصی رپورٹ :طارق محمود مرزا ..... آسٹریلیا میں پاکستانی سفارت خانہ شروع سے کرائے کی عمارت میں کا م کر رہاہے۔ حالانکہ بہت عرصہ پہلے آسٹریلین حکومت نے پاکستانی سفارتخانے کے لئے مفت زمین الاٹ کی ہوئی ہے۔ یہ زمین ایک عرصے سے تعمیر کے انتظار میں خالی پڑی ہے۔ یہ بات پاکستان کے سابق سفیر جناب جلیل عباس جیلانی نے آسٹریلیا سے جانے سے چند روز قبل نوائے وطن کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران بتائی۔ ( مکمل انٹر ویو جلد ہی نوائے وطن میں شائع کیا جاے گا) آسٹریلیا میں پاکستان کے سابق سفیر جناب جلیل عباس جیلانی کی کوششوں سے حکومتِ پاکستان نے سفارت خانے کی تعمیر کے لئے فنڈز منظور کر لیے ہیں۔ اس کے ٹینڈر نکالے گئے تھے اور مناسب کنٹریکٹر منتخب کر کے تعمیر کا کام اسے سونپ دیاگیا ہے۔ جلد ہی یہ تعمیر شروع ہو جائے گی ۔ یہ خاصا بڑا پروجیکٹ ہے کیونکہ سفارت خانے کی اسی عمارت میں سفیرِ پاکستان اور دوسرے عملے کے رہائیشی مکانات بھی بنائے جائیں گے۔ اس طرح حکومت پاکستان کرائے کی مد میں اٹھنے والے سالانہ بہت بڑے خرچ سے بچ سکے گا۔ کاش یہ فیصلہ بہت پہلے کر لیا گیا ہوتا اور پاکستان پچھلے ساٹھ سالوں سے کرائے کی مد میں جو لاکھوں ڈالرخرچ کر چکا ہے، ا س سے بچ سکتا تھا۔
ہم تم ساتھ ساتھ
طارق محمودمرزا۔سڈنی۔۔۔۔
ہفتہ سات نومبر کی شام سڈنی کے علاقے کے ایک کیمونٹی ہال میں ایک منفرد تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں سڈنی بھر کے اردو شاعر اور ہندی کے قوی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے اور ہندی اور اردو شاعری کا ملن ہو گیا۔ اس پروگرام کا نام بھی ’ ہم تم ساتھ ساتھ‘ تھا۔ اس فنکشن کا انعقاد GOPIOنے کیا تھا۔ اس کی انظامیہ میں عباس رضا علوی، ہیری والیہ، لکی سنگھ ، امیت پال اور دوسرے شامل ہیں۔ مہمانِ خصوصی ہندوستان کے قونصلیٹ جنرل تھے دوسرے مہمانوں میں مقامی ممبران پارلیمنٹ بھی شامل تھے۔ رات گئے جاری رہنے والے اس مشاعرے اور قوی ملن میں حاضرین نے نہ صرف رنگا رنگ شاعری سے لطف اٹھایا بلکہ اس کے بعد موسیقی اور رقص بھی پروگرام کا حصہ تھا جس سے محفل کا مزہ دوبالا ہو گیا۔
نوائے وطن آسٹریلیاء کا اعزاز
چاند رات کمیٹی آف آسٹریلیا نے نوائے وطن کو نمایاں کیمونٹی اخبار کی حیثیت سے اور اس کی نمایاں کارکردگی کی وجہ سے ا یوارڈ سے نوازا۔ یہ ایوارڈ لیور پول کی مئیر نے اخبار کے ایڈیٹر طارق مرزا کو چاند رات کے بہت بڑے فنکشن میں دیا ۔ واضح رہے کہ چاند رات کمیٹی آسٹریلیا میں پچھلے گیارہ سال سے چاند رات منا رہی ہے ا س سال بھی ہمیشہ کی طرح ہزاروں لوگوں نے اس میں شرکت کی اور اس رات کا بھر پور لطف اٹھایا۔
تصویری جھلکیاں
ہائی کمشنر جلیل عباس جیلانی کا خط ایڈیٹرنوائے وطن کے نام
ترجمہ
.محترم طارق محمود مرزاصاحب
میں آپ کو مطلع کرنا چاہوں گا کہ میں بیلجئیم اور یورپی یونین کے لئے بحیثیت سفیرِ پاکستان جارہا ہوں۔میں بائیس نومبر دو ہزارنو کو کینبرا چھوڑ دوں گا تاکہ اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال سکوں۔
میں آپ کے تعاون اور مدد کا بہت شکر گزارہوں ۔اور میں آپ کی خدمات کا اعتراف کروں گا جو آپ پاکستانی کمیونٹی کے لئے اخبار نوائے وطن اور صدائے جرس کے ذریعہ سے کر رہے ہیں۔
مستقبل میں آپ کی مزید ترقی کی خواہش کے ساتھ
آپکا مخلص
جلیل عباس جیلانی۔۔۔ہائی کمشنر آف پاکستان
’سعید خان اور نوشی گیلانی کی شادی کی پہلی سالگرہ‘
آسٹریلیاکے شاعر جوڑے سعید خان اور نوشی گیلانی کی شادی کی پہلی سالگرہ پچھلے دنوں سڈنی میں منائی گئی۔تقریب میں پاکستان کے مشہور شعراء خالد شریف ، بھارت کی شاعرہ شائستہ زیدی کے علاوہ ان کے سڈنی کے دوست احباب نے شرکت کی۔
اُردو سوسائیٹی آف آسٹریلیا کا پندرھواں بین الاقوامی سالانہ مشاعرہ

رپورٹ : طارق محمو دمرزا ، پبلک ریلیشن آفیسر اُردو سوسائیٹی آف آسٹریلیا پچھلے چودہ سال کی طرح اِس سال بھی اُردو سوسائیٹی آف آسٹریلیا نے سڈنی میں سالانہ بین الاقوامی مشاعرہ منعقد کیا۔ اس سال یہ بین الاقوامی مشاعرہ تئیس اکتوبر کی شام ہمالیہ ریستوران کے خوبصورت ہال میں منعقد ہوا۔ اس سال دو بین الاقوامی شاعر اس میں شریک ہو ئے ۔ ان میں پاکستان سے تشریف لانے والے خالد شریف اور بھارت سے شائستہ زیدی شامل تھے ۔اس مشاعرے کے صدر بھارت سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعراوم کرشن راحت تھے۔ دونوں مہمان شعراء کا شمار برصغیر کے بڑے شعراء میں ہوتا ہے ۔ وہ ادبی حلقوں میں برسوں سے جانے اور مانے جاتے ہیں۔ خالد شریف دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی شاعری کا جادو جگا چکے ہیں، لیکن آسٹریلیا میں پہلی دفعہ تشریف لائے تھے۔ اس لئے سامعین نے ان کی شاعری کو بہت پسند کیا ۔ شائستہ زیدی نے اپنی دلکش شاعری سے خوب جادو جگایا اور لوگوں نے دل کھول کر انہیں داد دی۔مشاعرے سے پہلے ہمالیہ ریسٹورنٹ کے لذیذ ڈنرسے تمام حاضرین نے لذتِ کام و دہن حاصل کیا۔ مشاعرے کی نظامت عارف صادق اور ہما مرزا نے کی۔ اُردو سوسائیٹی آف آسٹریلیا کی صدر ڈاکٹر کوثر جمال نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے اردو سوسائٹی کی سال بھر کی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ گیاراہ ماہ کے اندر دو بین الاقوامی مشاعروں کے علاوہ سوسائیٹی کے پبلک ریلیشن آفیسر طارق محمودمرزا کی کتاب خوشبو کا سفر کی تقریب رونمائی اور اوم کرشن راحت کی کتاب دو قدم آگے کی تقریبِ رونمائی بھی اسی سال ہوئی۔ اس کے علاوہ بہت سی ادبی شامیں منعقد ہوئیں۔ مہمان شعراء خالد شریف اور شائستہ زیدی کو حسبِ روایت نشانِ اردو کا اعزاز دیا گیا۔ ان کے علاوہ اردو سوسائیٹی کے ارکان ریحان علوی اور ہمامرزا کو ان کی خدمات کے عوض خصوصی شیلڈ دی گئی۔ مقامی شعراء جنہوں نے اس مشاعرے میں اپنا کلام سنایا، ان میں ہما مرزا، ارشد سعید ، ریحان علوی، توقیر حسنین، طارق محمود مرزا، نسیم حیدر ، عباس گیلانی ، شبیر حیدر،فرحت اقبال،اوم کرشن راحت، ظفر اقبال، محمد علی، سعید خان اور نوشی گیلانی شامل تھے رات ڈیڑھ بجے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں حاضرین شائستہ زیدی اورخصوصاً خالدشریف کی شاعری سے حاضرین بہت محذوذ ہوئے۔ اس خوبصورت مشاعرے میں دونوں شعراء مختلف رنگوں کے پھولوں کے ایک دلکش گلدستے کی طرح سجے۔ حاضرین نے ان کے ایک ایک شعر پر دل کھول کر داد دی ۔یوں یہ سڈنی کا یادگار مشاعرہ بن گیا جسے لوگ مدتوں یاد رکھیں گے۔
مظلوم عوام کے ساتھ بیوروکریسی کا منفی رویہ
لاہور سے محمد عامر وحید کا نوائے وطن کے لئے خصوصی کالم ایڈیٹر
محمد عامر وحید لاہور
اس وقت ملک میں دیگر بحرانوں کے ساتھ چینی کا بحران بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے بازاروں میں چینی دستیاب نہیں ہے اور اگر کہیں دستیاب ہے تو نہایت مہنگے داموں میں فروخت کی جارہی ہے آزاد عدلیہ کا نعرہ لگانے والے ن لیگ کے رہنما جن کی پنجاب میں صوبائی حکومت ہے وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چالیس روپے فی کلو گرام چینی کے فیصلے پر عمل درآمد کیوں نہیں کروا رہے ہیں؟ کیا یہ نعرہ (آزاد عدلیہ) ووٹوں کی خاطر عوام کی ہمدردیاں حاصلکرنے کے لئے لگایا گیا تھا ؟ چبھتا ہوا یہ کالم مزید پڑھیے...............................
آپ کی تحریروں کی نوک پلک درست کرنے کاحق ہمیں حاصل ہے۔مگر متن ضائع نہیں کیا جائے گا









